کلامِ ولیردیف ے
عشق بیتاب جاں گدازی ہے
۱
عشق بیتاب جاں گدازی ہےحسن مشتاق دل نوازی ہے
۲
اشک خونیں سوں جو کیا ہے وضومذہب عشق میں نمازی ہے
۳
جو ہوا راز عشق سوں آگاہوو زمانے کا فخر رازی ہے
۴
پاک بازاں سوں یوں ہوا مفہومعشق مضمون پاک بازی ہے
۵
جا کے پہنچی ہے حد ظلمت کوںبسکہ تجھ زلف میں درازی ہے
۶
تجربے سوں ہوا مجھے ظاہرناز مفہوم بے نیازی ہے
۷
اے ولیؔ عیش ظاہری کا سببجلوۂ شاہد مجازی ہے
۳۰ / ۳۴