کلامِ ولیردیف ہ
ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ
۱
ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہکہ جیوں پھاندے میں آتے ہیں ہرن آہستہ آہستہ
۲
مرا دل مثل پروانے کے تھا مشتاق جلنے کالگی اس شمع سوں آخر لگن آہستہ آہستہ
۳
گریباں صبر کا مت چاک کر اے خاطر مسکیںسنے گا بات وو شیریں بچن آہستہ آہستہ
۴
گل و بلبل کا گلشن میں خلل ہووے تو برجا ہےچمن میں جب چلے وو گل بدن آہستہ آہستہ
۵
ولیؔ سینے میں میرے پنجۂ عشق ستم گر نےکیا ہے چاک دل کا پیرہن آہستہ آہستہ
۱۹ / ۳۴