کلامِ ولیردیف ہ
ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ
۱
ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہکہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہ
۲
کیا ہوں رفتہ رفتہ رام اس کی چشم وحشی کوںکہ جیوں آہو کوں کرتے ہیں شکار آہستہ آہستہ
۳
جو اپنے تن کوں مثل جوئبار اول کیا پانیہوا اس سرو قد سوں ہم کنار آہستہ آہستہ
۴
برنگ قطرۂ سیماب میرے دل کی جنبش سوںہوا ہے دل صنم کا بے قرار آہستہ آہستہ
۵
اسے کہنا بجا ہے عشق کے گل زار کا بلبلجو گل رویاں میں پایا اعتبار آہستہ آہستہ
۶
مرا دل اشک ہو پہنچا ہے کوچے میں سریجن کےگیا کعبے میں یہ کشتی سوار آہستہ آہستہ
۷
ولیؔ مت حاسداں کی بات سوں دل کوں مکدر کرکہ آخر دل سوں جاوے گا غبار آہستہ آہستہ
۲۰ / ۳۴