کلامِ ذوقردیف الف

وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا

۱

وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتاپر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتا

۲

کیا قہر ہے وقفہ ہے ابھی آنے میں اس کےاور دم مرا جانے میں توقف نہیں کرتا

۳

کچھ اور گماں دل میں نہ گزرے ترے کافردم اس لیے میں سورۂ یوسف نہیں کرتا

۴

پڑھتا نہیں خط غیر مرا واں کسی عنواںجب تک کہ وہ مضموں میں تصرف نہیں کرتا

۵

دل فقر کی دولت سے مرا اتنا غنی ہےدنیا کے زر و مال پہ میں تف نہیں کرتا

۶

تا صاف کرے دل نہ مئے صاف سے صوفیکچھ سود و صفا علم تصوف نہیں کرتا

۷

اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسرآرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا

۱ / ۶۶