کلامِ ذوقردیف الف
نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں مارا
نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں ماراجو چڑھا منہ اسے میدان اجل میں مارا
مال جب اس نے بہت رد و بدل میں ماراہم نے دل اپنا اٹھا اپنی بغل میں مارا
اس لب و چشم سے ہے زندگی و موت اپنیکہ کبھی پل میں جلایا کبھی پل میں مارا
کھینچ کر عشق ستم پیشہ نے شمشیر جفاپہلے اک ہاتھ مجھی پر تھا ازل میں مارا
چرخ بد بیں کی کبھی آنکھ نہ پھوٹی سو بارتیر نالے نے مرے چشم زحل میں مارا
اجل آئی نہ شب ہجر میں اور ہم کو فلکبے اجل تو نے تمنائے اجل میں مارا
عشق کے ہاتھ سے نے قیس نہ فرہاد بچااس کو گر دشت میں تو اس کو جبل میں مارا
دل کو اس کاکل پیچاں سے نہ بل کرنا تھایہ سیہ بخت گیا اپنے ہی بل میں مارا
کون فریاد سنے زلف میں دل کی تو نےہے مسلمان کو کافر کے عمل میں مارا
عرس کی شب بھی مری گور پہ دو پھول نہ لائےپتھر اک گنبد تربت کے کنول میں مارا
آنکھ سے آنکھ ہے لڑتی مجھے ڈر ہے دل کاکہیں یہ جائے نہ اس جنگ و جدل میں مارا
ہم نے جانا تھا جبھی عشق نے مارا اس کوتیشہ فرہاد نے جس وقت جبل میں مارا
نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیبذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
۲ / ۶۶