کلامِ ذوقردیف الف

نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا

۱

نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتااے فلک گر تجھے اونچا نہ سنائی دیتا

۲

دیکھ چھوٹوں کو ہے اللہ بڑائی دیتاآسماں آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا

۳

لاکھ دیتا فلک آزار گوارہ تھے مگرایک تیرا نہ مجھے درد جدائی دیتا

۴

دے دعا وادی پر خار جنوں کو ہر گامداد یہ تیری ہے اے آبلہ پائی دیتا

۵

روش اشک گرا دیں گے نظر سے اک دنہے ان آنکھوں سے یہی مجھ کو دکھائی دیتا

۶

منہ سے بس کرتے کبھی یہ نہ خدا کے بندےگر حریصوں کو خدا ساری خدائی دیتا

۷

پنجۂ مہر کو بھی خون شفق میں ہر روزغوطے کیا کیا ہے ترا دست حنائی دیتا

۸

کون گھر آئینے کے آتا اگر وہ گھر میںخاکساری سے نہ جاروب صفائی دیتا

۹

میں ہوں وہ صید کہ پھر دام میں پھنستا جا کرگر قفس سے مجھے صیاد رہائی دیتا

۱۰

خوگر ناز ہوں کس کس کا کہ مجھے ساغر مےبوسۂ لب نہیں بے چشم نمائی دیتا

۱۱

دیکھ گر دیکھنا ہے ذوقؔ کہ وہ پردہ نشیںدیدۂ روزن دل سے ہے دکھائی دیتا

۳ / ۶۶