کلامِ ذوقردیف الف

مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا

۱

مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلادہان زخم سے خوں ہو کے حرف آرزو نکلا

۲

مرا گھر تیری منزل گاہ ہو ایسے کہاں طالعخدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہ رو نکلا

۳

پھرا گر آسماں تو شوق میں تیرے ہے سرگرداںاگر خورشید نکلا تیرا گرم جستجو نکلا

۴

مئے عشرت طلب کرتے تھے ناحق آسماں سے ہموہ تھا لبریز غم اس خمکدہ سے جو سبو نکلا

۵

ترے آتے ہی آتے کام آخر ہو گیا میرارہی حسرت کہ دم میرا نہ تیرے روبرو نکلا

۶

کہیں تجھ کو نہ پایا گرچہ ہم نے اک جہاں ڈھونڈاپھر آخر دل ہی میں دیکھا بغل ہی میں سے تو نکلا

۷

خجل اپنے گناہوں سے ہوں میں یاں تک کہ جب رویاتو جو آنسو مری آنکھوں سے نکلا سرخ رو نکلا

۸

گھسے سب ناخن تدبیر اور ٹوٹی سر سوزنمگر تھا دل میں جو کانٹا نہ ہرگز وہ کبھو نکلا

۹

اسے عیار پایا یار سمجھے ذوقؔ ہم جس کوجسے یاں دوست اپنا ہم نے جانا وہ عدو نکلا

۵ / ۶۶