کلامِ ذوقردیف الف
محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوا
۱
محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوالا ساقیا پیالہ کہ توبہ کا قل ہوا
۲
جن کی نظر چڑھا ترا رخسار آتشیںان کا چراغ گور نہ تا حشر گل ہوا
۳
بندہ نوازیاں تو یہ دیکھو کہ آدمیجزو ضعیف محرم اسرار کل ہوا
۴
دریائے غم سے میرے گزرنے کے واسطےتیغ خمیدہ یار کی لوہے کا پل ہوا
۵
پروانہ بھی تھا گرم تپش پر کھلا نہ رازبلبل کی تنگ حوصلگی تھی کہ غل ہوا
۶
آئی تہی دروں کی نہ ہرگز سمجھ میں باتآوازہ گو بلند مثال دہل ہوا
۷
اس بن رہا چمن میں بھی میں ذوقؔ دل خراشناخن سے تیز تر مجھے ہر برگ گل ہوا
۶ / ۶۶