کلامِ ذوقردیف الف
آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا
آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھاہے حسرت پابوس نکل جائے تو اچھا
جو چشم کہ بے نم ہو وہ ہو کور تو بہترجو دل کہ ہو بے داغ وہ جل جائے تو اچھا
بیمار محبت نے لیا تیرے سنبھالالیکن وہ سنبھالے سے سنبھل جائے تو اچھا
ہو تجھ سے عیادت جو نہ بیمار کی اپنےلینے کو خبر اس کی اجل جائے تو اچھا
کھینچے دل انساں کو نہ وہ زلف سیہ فاماژدر کوئی گر اس کو نگل جائے تو اچھا
تاثیر محبت عجب اک حب کا عمل ہےلیکن یہ عمل یار پہ چل جائے تو اچھا
دل گر کے نظر سے تری اٹھنے کا نہیں پھریہ گرنے سے پہلے ہی سنبھل جائے تو اچھا
فرقت میں تری تار نفس سینے میں میرےکانٹا سا کھٹکتا ہے نکل جائے تو اچھا
اے گریہ نہ رکھ میرے تن خشک کو غرقابلکڑی کی طرح پانی میں گل جائے تو اچھا
ہاں کچھ تو ہو حاصل ثمر نخل محبتیہ سینہ پھپھولوں سے جو پھل جائے تو اچھا
وہ صبح کو آئے تو کروں باتوں میں دوپہراور چاہوں کہ دن تھوڑا سا ڈھل جائے تو اچھا
ڈھل جائے جو دن بھی تو اسی طرح کروں شاماور چاہوں کہ گر آج سے کل جائے تو اچھا
جب کل ہو تو پھر وہ ہی کہوں کل کی طرح سےگر آج کا دن بھی یوں ہی ٹل جائے تو اچھا
القصہ نہیں چاہتا میں جائے وہ یاں سےدل اس کا یہیں گرچہ بہل جائے تو اچھا
ہے قطع رہ عشق میں اے ذوقؔ ادب شرطجوں شمع تو اب سر ہی کے بل جائے تو اچھا
۹ / ۶۶