کلامِ ذوقردیف الف

دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا

۱

دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیاسن لیجیو کہ عرش کا ایوان بہہ گیا

۲

بل بے گداز عشق کہ خوں ہو کے دل کے ساتھسینے سے تیرے تیر کا پیکان بہہ گیا

۳

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوںکیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

۴

ہے موج بحر عشق وہ طوفاں کہ الحفیظبیچارہ مشت خاک تھا انسان بہہ گیا

۵

دریائے اشک سے دم تحریر حال دلکشتی کی طرح میرا قلم دان بہہ گیا

۶

یہ روئے پھوٹ پھوٹ کے پانی کے آبلےنالہ سا ایک سوئے بیابان بہہ گیا

۷

تھا تو بہا میں بیش پر اس لب کے سامنےسب مول تیرا لعل بدخشان بہہ گیا

۸

کشتی سوار عمر ہوں بحر فنا میں ذوقؔجس دم بہا کے لے گیا طوفان بہہ گیا

۹

تھا ذوقؔ پہلے دہلی میں پنجاب کا سا حسنپر اب وہ پانی کہتے ہیں ملتان بہہ گیا

۸ / ۶۶