کلامِ ذوقردیف الف

ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا

۱

ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کاچشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کا

۲

میں جو شہید ہوں لب خندان یار کاکیا کیا چراغ ہنستا ہے میرے مزار کا

۳

ہو راز دل نہ یار سے پوشیدہ یار کاپردہ نہ درمیاں ہو جو دل کے غبار کا

۴

اس روئے تابناک پہ ہر قطرۂ عرقگویا کہ اک ستارہ ہے صبح بہار کا

۵

ہے عین وصل میں بھی مری چشم سوئے درلپکا جو پڑ گیا ہے مجھے انتظار کا

۶

پہنچے گا تیرے پاس کبوتر سے پیشترمکتوب شوق اڑا کے ترے بے قرار کا

۷

ہو پاک دامنوں کو خلش گر سے کیا خطرکھٹکا نہیں نگاہ کو مژگاں کے خار کا

۸

بجھنے کی دل کی آگ نہیں زیر خاک بھیہوگا درخت گور پہ میری چنار کا

۹

دیکھ اپنے در گوش کو عارض سے متصلدیکھا نہ ہو ستارہ جو صبح بہار کا

۱۰

پوچھے ہے کیا حلاوت تلخابۂ سرشکشربت ہے باغ خلد بریں کے انار کا

۱۱

ہے دل کی داؤ گھات میں مژگاں سے چشم یارہے شوق اس کی ٹٹی کی اوجھل شکار کا

۱۲

قاصد لکھوں لفافۂ خط کو غبار سےتا جانے وہ یہ خط ہے کسی خاکسار کا

۱۳

اے ذوقؔ ہوش گر ہے تو دنیا سے دور بھاگاس مے کدے میں کام نہیں ہوشیار کا

۱۱ / ۶۶