کلامِ ذوقردیف د
کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد
کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعدسینے میں ہوگی سانس اڑی دو گھڑی کے بعد
کیا روکا اپنے گریے کو ہم نے کہ لگ گئیپھر وہ ہی آنسوؤں کی جھڑی دو گھڑی کے بعد
کوئی گھڑی اگر وہ ملایم ہوئے تو کیاکہہ بیٹھیں گے پھر ایک کڑی دو گھڑی کے بعد
اس لعل لب کے ہم نے لیے بوسے اس قدرسب اڑ گئی مسی کی دھڑی دو گھڑی کے بعد
اللہ رے ضعف سینہ سے ہر آہ بے اثرلب تک جو پہنچی بھی تو چڑھی دو گھڑی کے بعد
کل اس سے ہم نے ترک ملاقات کی تو کیاپھر اس بغیر کل نہ پڑی دو گھڑی کے بعد
تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتےساری وہ شیخی ان کی جھڑی دو گھڑی کے بعد
کہتا رہا کچھ اس سے عدو دو گھڑی تلکغماز نے پھر اور جڑی دو گھڑی کے بعد
پروانہ گرد شمع کے شب دو گھڑی رہاپھر دیکھی اس کی خاک پڑی دو گھڑی کے بعد
تو دو گھڑی کا وعدہ نہ کر دیکھ جلد آآنے میں ہوگی دیر بڑی دو گھڑی کے بعد
گو دو گھڑی تک اس نے نہ دیکھا ادھر تو کیاآخر ہمیں سے آنکھ لڑی دو گھڑی کے بعد
کیا جانے دو گھڑی وہ رہے ذوقؔ کس طرحپھر تو نہ ٹھہرے پاؤں گھڑی دو گھڑی کے بعد
۱۲ / ۶۶