سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشیدہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے
About this couplet
This is couplet 2 of 5 in “سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (کلامِ ذوق).
Read it in the poem۲ / ۵