کلامِ ذوقردیف ے

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے

۱

سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہےکون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے

۲

گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشیدہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے

۳

وہ مرے اختر طالع کی ہے واژوں گردشکہ فلک کو بھی نگوں سار لیے پھرتی ہے

۴

کر دیا کیا ترے ابرو نے اشارہ قاتلکہ قضا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے

۵

جا کے اک بار نہ پھرنا تھا جہاں واں مجھ کوبے قراری ہے کہ سو بار لیے پھرتی ہے

۳۴ / ۶۶