سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
کر دیا کیا ترے ابرو نے اشارہ قاتلکہ قضا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے
About this couplet
This is couplet 4 of 5 in “سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (کلامِ ذوق).
Read it in the poem۴ / ۵