کلامِ ذوقردیف ے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
۱
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلےاپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
۲
ہو عمر خضر بھی تو ہو معلوم وقت مرگہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے
۳
ہم سے بھی اس بساط پہ کم ہوں گے بد قمارجو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے
۴
بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگےپر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے
۵
لیلیٰ کا ناقہ دشت میں تاثیر عشق سےسن کر فغان قیس بجائے حدی چلے
۶
نازاں نہ ہو خرد پہ جو ہونا ہے ہو وہیدانش تری نہ کچھ مری دانش وری چلے
۷
دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھتم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے
۸
جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوقؔاپنی بلا سے باد صبا اب کبھی چلے
۴۲ / ۶۶