کلامِ ذوقردیف ے
لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلے
لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلےتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلے
تم چشم سرمگیں کو جو اپنی دکھا چلےبیٹھے بٹھائے خاک میں ہم کو ملا چلے
دیوانہ آ کے اور بھی دل کو بنا چلےاک دم تو ٹھہرو اور بھی کیا آئے کیا چلے
ہم لطف سیر باغ جہاں خاک اڑا چلےشوق وصال دل میں لیے یار کا چلے
غیروں کے ساتھ چھوڑ کے تم نقش پا چلےکیا خوب پھول گور پہ میری چڑھا چلے
دکھلا کے مجھ کو نرگس بیمار کیا چلےآوارہ مثل آہوئے صحرا بنا چلے
اے غم مجھے تمام شب ہجر میں نہ کھارہنے دے کچھ کہ صبح کا بھی ناشتا چلے
بل بے غرور حسن زمیں پر نہ رکھے پاؤںمانند آفتاب وہ بے نقش پا چلے
کیا لے چلے گلی سے تری ہم کو جوں نسیمآئے تھے سر پہ خاک اڑانے اڑا چلے
افسوس ہے کہ سایہ مرغ ہوا کی طرحہم جس کے ساتھ ساتھ چلیں وہ جدا چلے
کیا دیکھتا ہے ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیبیاں جان ہی بدن میں نہیں نبض کیا چلے
قاتل جو تیرے دل میں رکاوٹ نہ ہو تو کیوںرک رک کے میرے حلق پہ خنجر ترا چلے
لے جائیں تیرے کشتے کو جنت میں بھی اگرپھر پھر کے تیرے گھر کی طرف دیکھتا چلے
آلودہ چشم میں نہ ہوئی سرمے سے نگاہدیکھا جہاں سے صاف ہی اہل صفا چلے
روز ازل سے زلف معنبر کا ہے اسیرکیا اڑ کے تجھ سے طائر نکہت بھلا چلے
ساتھ اپنے لے کے توسن عمر رواں کو آہہم اس سرائے دہر میں کیا آئے کیا چلے
سلجھائیں زلفیں کیا لب دریا پہ آپ نےہر موج مثل مارسیہ تم بنا چلے
دنیا میں جب سے آئے رہا عشق گل رخاںہم اس جہاں میں مثل صبا خاک اڑا چلے
قاتل سے دخل کیا ہے کہ جاں بر ہو اپنا ہوشگر اڑ کے مثل طائر رنگ حنا چلے
فکر قناعت ان کو میسر ہوئی کہاںدنیا سے دل میں لے کے جو حرص و ہوا چلے
اس روئے آتشیں کے تصور میں یاد زلفیعنی غضب ہے آگ لگے اور ہوا چلے
اے ذوقؔ ہے غضب نگہ یار الحفیظوہ کیا بچے کہ جس پہ یہ تیر قضا چلے
۴۱ / ۶۶