کلامِ ذوقردیف ے

خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے

۱

خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھےحسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے

۲

بعد رنجش کے گلے ملتے ہوئے رکتا ہے جیاب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے

۳

بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی وحشت وگرنہ پہلے توہاتھ کے ناخن بڑھے سر کے ہمارے مو بڑھے

۴

تجھ کو دشمن واں شرارت سے جو بھڑکاتے ہے روزچاہتے ہیں اور شر اے شوخ آتش خو بڑھے

۵

کچھ تپ غم کو گھٹا کیا فائدہ اس سے طبیبروز نسخے میں اگر خرفہ گھٹے کاہو بڑھے

۶

پیشوائی کو غم جاناں کی چشم دل سے ذوقؔجب بڑھے نالہ تو اس سے بیشتر آنسو بڑھے

۴۴ / ۶۶