کلامِ ذوقردیف ے

کب حق پرست زاہد جنت پرست ہے

۱

کب حق پرست زاہد جنت پرست ہےحوروں پہ مر رہا ہے یہ شہوت پرست ہے

۲

دل صاف ہو تو چاہیئے معنی پرست ہوآئینہ خاک صاف ہے صورت پرست ہے

۳

درویش ہے وہی جو ریاضت میں چست ہوتارک نہیں فقیر بھی راحت پرست ہے

۴

جز زلف سوجھتا نہیں اے مرغ دل تجھےخفاش تو نہیں ہے کہ ظلمت پرست ہے

۵

دولت کی رکھ نہ مار سر گنج سے امیدموذی وہ دے گا کیا کہ جو دولت پرست ہے

۶

عنقا نے گم کیا ہے نشاں نام کے لیےگم گشتہ کون کہتا ہے شہرت پرست ہے

۷

یہ ذوقؔ مے پرست ہے یا ہے صنم پرستکچھ ہے بلا سے لیک محبت پرست ہے

۴۵ / ۶۶