چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
واں ہلے ابرو یہاں پھیری گلے پر ہم نے تیغبات کا ایما سے پانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
About this couplet
This is couplet 14 of 18 in “چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (کلامِ ذوق).
Read it in the poem۱۴ / ۱۸