کلامِ ذوقردیف ے

چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۱

چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائےجی ہی جی میں تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۲

ابر کیا آنسو بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائےبرق کیا ہے تلملانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۳

ذکر شمع حسن لانا کوئی ہم سے سیکھ جائےان کو درپردہ جلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۴

جھوٹ موٹ افیون کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائےان کو کف لا کر ڈرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۵

سن کے آمد ان کی از خود رفتہ ہو جاتے ہیں ہمپیشوا لینے کو جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۶

ہم نے اول ہی کہا تھا تو کرے گا ہم کو قتلتیوروں کا تاڑ جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۷

لطف اٹھانا ہے اگر منظور اس کے ناز کاپہلے اس کا ناز اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۸

جو سکھایا اپنی قسمت نے وگرنہ اس کو غیرکیا سکھائے گا سکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۹

دیکھ کر قاتل کو بھر لائے خراش دل میں خوںسچ تو یہ ہے مسکرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۱۰

تیر و پیکاں دل میں جتنے تھے دیے ہم نے نکالاپنے ہاتھوں گھر لٹانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۱۱

کہہ دو قاصد سے کہ جائے کچھ بہانے سے وہاںگر نہیں آتا بہانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۱۲

خط میں لکھوا کر انہیں بھیجا تو مطلع درد کادرد دل اپنا جتانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۱۳

جب کہا مرتا ہوں وہ بولے مرا سر کاٹ کرجھوٹ کو سچ کر دکھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۱۴

واں ہلے ابرو یہاں پھیری گلے پر ہم نے تیغبات کا ایما سے پانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۱۵

تیغ تو اوچھی پڑی تھی گر پڑے ہم آپ سےدل کو قاتل کے بڑھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۱۶

زخم کو سیتے ہیں سب پر سوزن الماس سےچاک سینے کے سلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۱۷

پوچھے ملا سے جسے کرنا ہو سجدہ سہو کاسیکھے گر اپنا بھلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۱۸

کیا ہوا اے ذوقؔ ہیں جوں مردمک ہم رو سیاہلیکن آنکھوں میں سمانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

۵۰ / ۶۶