چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
سن کے آمد ان کی از خود رفتہ ہو جاتے ہیں ہمپیشوا لینے کو جانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
About this couplet
This is couplet 5 of 18 in “چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (کلامِ ذوق).
Read it in the poem۵ / ۱۸