چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

دیکھ کر قاتل کو بھر لائے خراش دل میں خوںسچ تو یہ ہے مسکرانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

About this couplet

This is couplet 9 of 18 in “⁨چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (⁨کلامِ ذوق⁩).

Read it in the poem

۹ / ۱۸