چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے

خط بھی لکھتے ہیں تو لیتے ہیں خطائی کاغذدیکھیے کب تک انہیں میری خطا یاد رہے

About this couplet

This is couplet 7 of 13 in “⁨چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (⁨کلامِ ذوق⁩).

Read it in the poem

۷ / ۱۳