کلامِ ذوقردیف ے

چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے

۱

چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہےموت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے

۲

میرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہےیہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے

۳

کشتۂ زلف کے مرقد پہ تو اے لیلی وشبید مجنوں ہی لگا تاکہ پتا یاد رہے

۴

خاکساری ہے عجب وصف کہ جوں جوں ہو سواہو صفا اور دل اہل صفا یاد رہے

۵

ہو یہ لبیک حرم یا یہ اذان مسجدمے کشو قلقل مینا کی صدا یاد رہے

۶

یاد اس وعدہ فراموش نے غیروں سے بدییاد کچھ کم تو نہ تھی اور سوا یاد رہے

۷

خط بھی لکھتے ہیں تو لیتے ہیں خطائی کاغذدیکھیے کب تک انہیں میری خطا یاد رہے

۸

دو ورق میں کف حسرت کے دو عالم کا ہے علمسبق عشق اگر تجھ کو دلا یاد رہے

۹

قتل عاشق پہ کمر باندھی ہے اے دل اس نےپر خدا ہے کہ اسے نام مرا یاد رہے

۱۰

طائر قبلہ نما بن کے کہا دل نے مجھےکہ تڑپ کر یوں ہی مر جائے گا جا یاد رہے

۱۱

جب یہ دیں دار ہیں دنیا کی نمازیں پڑھتےکاش اس وقت انہیں نام خدا یاد رہے

۱۲

ہم پہ سو بار جفا ہو تو رکھو ایک نہ یادبھول کر بھی کبھی ہووے تو وفا یاد رہے

۱۳

محو اتنا بھی نہ ہو عشق بتاں میں اے ذوقؔچاہیئے بندے کو ہر وقت خدا یاد رہے

۵۱ / ۶۶