یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے

نخل مژگاں سے ہے کیا جانیے کیا چشم ثمرچشم پانی کی جگہ خون جگر دیتی ہے

About this couplet

This is couplet 11 of 13 in “⁨یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (⁨کلامِ ذوق⁩).

Read it in the poem

۱۱ / ۱۳