کلامِ ذوقردیف ے

یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے

۱

یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہےزندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے

۲

زال دنیا ہے عجب طرح کی علامۂ دہرمرد دیں دار کو بھی دہریہ کر دیتی ہے

۳

بڑھتی جاتی ہے جو مشق ستم اس ظالم کیکچھ محبت مری اصلاح مگر دیتی ہے

۴

فائدہ دے ترے بیمار کو کیا خاک دوااب تو اکسیر بھی دیجے تو ضرر دیتی ہے

۵

شمع گھبرا نہ شب غم سے کہ کوئی دم میںتجھ کو کافور سفیدی سحر دیتی ہے

۶

غنچہ ہنستا ہے ترے آگے جو گستاخی سےچٹخنا منہ پہ وہیں باد سحر دیتی ہے

۷

شمع بھی کم نہیں کچھ عشق میں پروانے سےجان دیتا ہے اگر وہ تو یہ سر دیتی ہے

۸

دم بہ دم زخم پہ اک زخم ہے دم لینے کیمجھ کو فرصت نہیں وہ تیغ نظر دیتی ہے

۹

کہتے سنتے نہیں کچھ ہم تو شب ہجر میں پرنالۂ دل کا جواب آہ جگر دیتی ہے

۱۰

تیرہ بختی مری کرتی ہے پریشاں مجھ کوتہمت اس زلف سیہ فام پہ دھر دیتی ہے

۱۱

نخل مژگاں سے ہے کیا جانیے کیا چشم ثمرچشم پانی کی جگہ خون جگر دیتی ہے

۱۲

دیتی شربت ہے کسے زہر بھری آنکھ تریعین احسان ہے وہ زہر بھی گر دیتی ہے

۱۳

کوئی غماز نہیں میری طرف سے اے ذوقؔکان اس کے مری فریاد ہی بھر دیتی ہے

۵۵ / ۶۶