کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے
نہ شکایت ہے کرم کی نہ ستم کی خواہشدیکھ تو ہم بھی ہیں کیا صبر و قناعت والے
About this couplet
This is couplet 11 of 19 in “کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (کلامِ ذوق).
Read it in the poem۱۱ / ۱۹