کلامِ ذوقردیف ے

کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے

۱

کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والےان کا بندہ ہوں جو بندے ہیں محبت والے

۲

چاہیں گر چارہ جراحت کا محبت والےبیچیں الماس و نمک سنگ جراحت والے

۳

گئے جنت میں اگر سوز محبت والےتو یہ جانو رہے دوزخ ہی میں جنت والے

۴

ساقیا ہوں جو صبوحی کی نہ عادت والےصبح محشر کو بھی اٹھیں نہ ترے متوالے

۵

دختر رز کو نہیں چھیڑتے ہیں متوالےحذر اس فاحشہ سے کرتے ہیں حرمت والے

۶

رہے جوں شیشۂ ساعت وہ مکدر دونوںکبھی مل بھی گئے دو دل جو کدورت والے

۷

کس مرض کی ہیں دوا یہ لب جاں بخش ترےجاں بہ لب ہیں ترے آزار محبت والے

۸

حرص کے پھیلتے ہیں پاؤں بہ قدر وسعتتنگ ہی رہتے ہیں دنیا میں فراغت والے

۹

ہائے رے حسرت دیدار مری ہائے کو بھیلکھتے ہیں ھائے دو چشمی سے کتابت والے

۱۰

نہیں جز شمع مجاور مری بالین مزارنہیں جز کثرت پروانہ زیارت والے

۱۱

نہ شکایت ہے کرم کی نہ ستم کی خواہشدیکھ تو ہم بھی ہیں کیا صبر و قناعت والے

۱۲

کیا تماشا ہے کہ مثل مہ نو اپنا فروغجانتے اپنی حقارت کو ہیں شہرت والے

۱۳

دل سے کچھ کہتا ہوں میں مجھ سے ہے کچھ کہتا دلدونوں اک حال میں ہیں رنج و مصیبت والے

۱۴

تو گر آ جائے تو اے درد محبت کی دوامرے ہمدرد ہوں بے درد فضیحت والے

۱۵

چھوڑ دیتے ہیں قلم جوں قلم آتش بازمری شرح طپش دل کی کتابت والے

۱۶

کبھی افسوس ہے آتا کبھی رونا آتادل بیمار کے ہیں دو ہی عیادت والے

۱۷

تو مرے حال سے غافل ہے پر اے غفلت کیشتیرے انداز تغافل نہیں غفلت والے

۱۸

ہم نے دیکھا ہے جو اس بت میں نہیں کہہ سکتےکہ مبادا کہیں سن پائیں شریعت والے

۱۹

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوقؔاس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے

۵۶ / ۶۶