کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے
دل سے کچھ کہتا ہوں میں مجھ سے ہے کچھ کہتا دلدونوں اک حال میں ہیں رنج و مصیبت والے
About this couplet
This is couplet 13 of 19 in “کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (کلامِ ذوق).
Read it in the poem۱۳ / ۱۹