کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے
دختر رز کو نہیں چھیڑتے ہیں متوالےحذر اس فاحشہ سے کرتے ہیں حرمت والے
About this couplet
This is couplet 5 of 19 in “کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (کلامِ ذوق).
Read it in the poem۵ / ۱۹