کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے
حرص کے پھیلتے ہیں پاؤں بہ قدر وسعتتنگ ہی رہتے ہیں دنیا میں فراغت والے
About this couplet
This is couplet 8 of 19 in “کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Sheikh Muhammad Ibrahim Zauq's Urdu book Kalam-e-Zauq (کلامِ ذوق).
Read it in the poem۸ / ۱۹