کلامِ ذوقردیف ے

ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے

۱

ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سےلگایا جی کو ناحق غم ابھی سے

۲

دلا ربط اس سے رکھنا کم ابھی سےجتا دیتے ہیں تجھ کو ہم ابھی سے

۳

ترے بیمار غم کے ہیں جو غم خواربرستا ان پہ ہے ماتم ابھی سے

۴

غضب آیا ہلیں گر اس کی مژگاںصف عشاق ہے برہم ابھی سے

۵

اگرچہ دیر ہے جانے میں تیرےنہیں پر اپنے دم میں دم ابھی سے

۶

بھگو رہوے گا گریہ جیب و دامنرہے ہے آستیں پر نم ابھی سے

۷

تمہارا مجھ کو پاس آبرو تھاوگرنہ اشک جاتے تھم ابھی سے

۸

لگے سیسہ پلانے مجھ کو آنسوکہ ہو بنیاد غم محکم ابھی سے

۹

کہا جانے کو کس نے مینہ کھلے پرکہ چھایا دل پہ ابر غم ابھی سے

۱۰

نکلتے ہی دم اٹھواتے ہیں مجھ کوہوئے بے زار یوں ہمدم ابھی سے

۱۱

ابھی دل پر جراحت سو نہ دو سودھرا ہے دوستو مرہم ابھی سے

۱۲

کیا ہے وعدۂ دیدار کس نےکہ ہے مشتاق اک عالم ابھی سے

۱۳

مرا جانا مجھے غیروں نے اے ذوقؔکہ پھرتے ہیں خوش و خرم ابھی سے

۶۲ / ۶۶