کلامِ ذوقردیف ے

ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے

۱

ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہےکیا حقیقی ہے کیا مجازی ہے

۲

دختر رز نکل کے مینا سےکرتی کیا کیا زباں درازی ہے

۳

خط کو کیا دیکھتے ہو آئنے میںحسن کی یہ ادا طرازی ہے

۴

ہندوئے چشم طاق ابرو میںکیا بنا آن کر نمازی ہے

۵

نذر دیں نفس کش کو دنیا دارواہ کیا تیری بے نیازی ہے

۶

بت طناز ہم سے ہو ناسازکارسازوں کی کارسازی ہے

۷

سچ کہا ہے کسی نے یہ اے ذوقؔمال موذی نصیب غازی ہے

۶۱ / ۶۶