کلامِ ذوقردیف ن
قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں
۱
قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیںچشم پر آب سے آئینے وضو کرتے ہیں
۲
کرتے اظہار ہیں در پردہ عداوت اپنیوہ مرے آگے جو تعریف عدو کرتے ہیں
۳
دل کا یہ حال ہے پھٹ جائے ہے سو جائے سے اوراگر اک جائے سے ہم اس کو رفو کرتے ہیں
۴
توڑیں اک نالے سے اس کاسۂ گردوں کو مگرنوش ہم اس میں کبھو دل کا لہو کرتے ہیں
۵
قد دل جو کو تمہارے نہیں دیکھا شایدسرکشی اتنی جو سرو لب جو کرتے ہیں
۱۸ / ۶۶