کلامِ ذوقردیف ن

دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں

۱

دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میںشمع ہے اک سوزن گم گشتہ اس کاشانہ میں

۲

میں ہوں وہ خشت کہن مدت سے اس ویرانے میںبرسوں مسجد میں رہا برسوں رہا مے خانہ میں

۳

میں وہ کیفی ہوں کہ پانی ہو تو بن جائے شرابجوش کیفیت سے میری خاک کے پیمانہ میں

۴

برق خرمن سوز دانائی ہے نافہمی تریورنہ کیا کیا لہلہاتے کھیت ہیں ہر دانہ میں

۵

کس نزاکت سے ہے دیکھو اتحاد حسن و عشقزلف واں شانے نے کھینچی درد ہے یاں شانہ میں

۶

وحشت و ناآشنائی مستی و بیگانگییا تری آنکھوں میں دیکھی یا ترے دیوانہ میں

۷

عشق کو نشوونما منظور ہے کب ورنہ سبزتخم اشک شمع ہو خاکستر پروانہ میں

۸

ہوش کا دعویٰ ہے بے ہوشوں کو زیر آسماںخم نشیں مثل فلاطوں سب ہیں اس خم خانہ میں

۹

پتھروں میں ٹھوکریں کھاتا ہے ناحق سیل آبپوچھو کیا لے جائے گا آ کر مرے غم خانہ میں

۱۰

ایک پتھر پوجنے کو شیخ جی کعبے گئےذوقؔ ہر بت قابل بوسہ ہے اس بت خانہ میں

۱۹ / ۶۶