کلامِ ذوقردیف ن
دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں
دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میںشمع ہے اک سوزن گم گشتہ اس کاشانہ میں
میں ہوں وہ خشت کہن مدت سے اس ویرانے میںبرسوں مسجد میں رہا برسوں رہا مے خانہ میں
میں وہ کیفی ہوں کہ پانی ہو تو بن جائے شرابجوش کیفیت سے میری خاک کے پیمانہ میں
برق خرمن سوز دانائی ہے نافہمی تریورنہ کیا کیا لہلہاتے کھیت ہیں ہر دانہ میں
کس نزاکت سے ہے دیکھو اتحاد حسن و عشقزلف واں شانے نے کھینچی درد ہے یاں شانہ میں
وحشت و ناآشنائی مستی و بیگانگییا تری آنکھوں میں دیکھی یا ترے دیوانہ میں
عشق کو نشوونما منظور ہے کب ورنہ سبزتخم اشک شمع ہو خاکستر پروانہ میں
ہوش کا دعویٰ ہے بے ہوشوں کو زیر آسماںخم نشیں مثل فلاطوں سب ہیں اس خم خانہ میں
پتھروں میں ٹھوکریں کھاتا ہے ناحق سیل آبپوچھو کیا لے جائے گا آ کر مرے غم خانہ میں
ایک پتھر پوجنے کو شیخ جی کعبے گئےذوقؔ ہر بت قابل بوسہ ہے اس بت خانہ میں
۱۹ / ۶۶