کلامِ ذوقردیف ر
کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کر
کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کرچل بسا وہ آج سب ہستی کا ساماں چھوڑ کر
طفل اشک ایسا گرا دامان مژگاں چھوڑ کرپھر نہ اٹھا کوچۂ چاک گریباں چھوڑ کر
کیونکہ نکلے تیرا اس کا دل میں پیکاں چھوڑ کرجائے بیضے کو کہاں یہ مرغ پراں چھوڑ کر
جس نے ہو لذت اٹھائی زخم تیغ عشق کیکب وہ مرہم دان کو ڈھونڈے نمک داں چھوڑ کر
صید دل کو کیونکہ چھوڑے جب کہ دکھلا دے نہ تومچھلیاں دست حنائی میں مری جاں چھوڑ کر
سرد مہری سے کسی کی آگے ہی جی سرد ہےیاں سے ہٹ جا دھوپ اے ابر خراماں چھوڑ کر
دیکھیے کیا ہو کہ ہے اب جان کے پیچھے پڑیدل کو اے کافر تری زلف پریشاں چھوڑ کر
اے دل اس کے تیر کے ہم راہ سینے سے نکلورنہ پچھتائے گا تو یہ ساتھ ناداں چھوڑ کر
کیوں نہ رم کر جائیں آہو ایسے وحشی سے ترےشیر بھاگیں جس کے نالوں سے نیستاں چھوڑ کر
سرخی پاں دیکھ لے زاہد جو دنداں پر ترےاٹھ کھڑا ہو ہاتھ سے تسبیح مرجاں چھوڑ کر
پیش خیمہ لے کے نکلا گرد باد دور روہے جو سرگرم سفر تن کو مری جاں چھوڑ کر
گر خدا دیوے قناعت ماہ دوہفتہ کی طرحدوڑے ساری کو کبھی آدھی نہ انساں چھوڑ کر
ساغر دل بیچتا آیا ہوں کھو مت ہاتھ سےچوکتا ہے کیوں یہ جنس دست گرداں چھوڑ کر
کام یہ تیرا ہی تھا رحمت ہو اے ابر کرمورنہ جائے داغ عصیاں میرا داماں چھوڑ کر
پڑھ غزل اے ذوقؔ کوئی گرم سی اب تو نہ جاجانب مضمون طرز تفتہ جاناں چھوڑ کر
۱۵ / ۶۶