کلامِ ذوقردیف ر
بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر
۱
بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کرایماں یہ ہے کہ بھیج دے آنکھیں نکال کر
۲
دل سینے میں کہاں ہے نہ تو دیکھ بھال کراے آہ کہہ دے تیر کا نامہ نکال کر
۳
اترے گا ایک جام بھی پورا نہ چاک سےخاک دل شکستہ نہ صرف کلال کر
۴
لے کر بتوں نے جان جب ایماں پہ ڈالا ہاتھدل کیا کنارے ہو گیا سب کو سنبھال کر
۵
تصویر ان کی حضرت دل کھینچ لیجے گررکھ دیں گے ہم بھی پاؤں پہ آنکھیں نکال کر
۶
قاتل ہے کس مزے سے نمک پاش زخم دلبسمل ذرا تڑپ کے نمک تو حلال کر
۷
دل کو رفیق عشق میں اپنا سمجھ نہ ذوقؔٹل جائے گا یہ اپنی بلا تجھ پہ ٹال کر
۱۴ / ۶۶