کلامِ اکبرردیف الف

اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا

۱

اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتازمانہ کی دو رنگی کا اسے ہرگز نہ غم ہوتا

۲

یہ پابند مصیبت دل کے ہاتھوں ہم تو رہتے ہیںنہیں تو چین سے کٹتی نہ دل ہوتا نہ غم ہوتا

۳

انہیں کی ہے وفائی کا یہ ہے آٹھوں پہر صدمہوہی ہوتے جو قابو میں تو پھر کاہے کو غم ہوتا

۴

لب و چشم صنم گر دیکھنے پاتے کہیں شاعرکوئی شیریں سخن ہوتا کوئی جادو رقم ہوتا

۵

بہت اچھا ہوا آئے نہ وہ میری عیادت کوجو وہ آتے تو غیر آتے جو غیر آتے تو غم ہوتا

۶

اگر قبریں نظر آتیں نہ دارا و سکندر کیمجھے بھی اشتیاق دولت و جاہ و حشم ہوتا

۷

لئے جاتا ہے جوش شوق ہم کو راہ الفت میںنہیں تو ضعف سے دشوار چلنا دو قدم ہوتا

۸

نہ رہنے پائے دیواروں میں روزن شکر ہے ورنہتمہیں تو دل لگی ہوتی غریبوں پر ستم ہوتا

۴ / ۱۴۶