کلامِ اکبرردیف الف

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا

۱

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگااٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا

۲

وہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہواپھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا

۳

قیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگےاگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا

۴

آرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہتنام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ہوگا

۵

لعل لب کا ترے بوسہ تو میں لیتا ہوں مگرڈر یہ ہے خون جگر بعد میں پینا ہوگا

۵ / ۱۴۶