کلامِ اکبرردیف الف

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا

۱

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہواکہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہوا

۲

غریب دل نے بہت آرزوئیں پیدا کیںمگر نصیب کا لکھا کہ سب کا خون ہوا

۳

وہ اپنے حسن سے واقف میں اپنی عقل سے سیرانہوں نے ہوش سنبھالا مجھے جنون ہوا

۴

امید چشم مروت کہاں رہی باقیذریعہ باتوں کا جب صرف ٹیلیفون ہوا

۵

نگاہ گرم کرسمس میں بھی رہی ہم پرہمارے حق میں دسمبر بھی ماہ جون ہوا

۶ / ۱۴۶