کلامِ اکبرردیف الف
جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا
۱
جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کاکیا دل کشا یہ سین ہے فصل بہار کا
۲
نازاں ہیں جوش حسن پہ گل ہائے دل فریبجوبن دکھا رہا ہے یہ عالم ابھار کا
۳
ہیں دیدنی بنفشہ و سنبل کے پیچ و تابنقشہ کھینچا ہوا ہے خط و زلف یار کا
۴
سبزہ ہے یا یہ آب زمرد کی موج ہےشبنم ہے بحر یا گہر آبدار کا
۵
مرغان باغ زمزمہ سنجی میں محو ہیںاور ناچ ہو رہا ہے نسیم بہار کا
۶
پرواز میں ہیں تیتریاں شاد و چست و مستزیب بدن کیے ہوئے خلعت بہار کا
۷
موج ہوا و زمزمۂ عندلیب مستاک ساز دلنواز ہے مضراب و تار کا
۸
ابر تنک نے رونق موسم بڑھائی ہےغازہ بنا ہے روئے عروس بہار کا
۹
افسوس اس سماں میں بھی اکبرؔ اداس ہےسوہان روح ہجر ہے اک گل عذار کا
۷ / ۱۴۶