کلامِ اکبرردیف الف

جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا

۱

جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیااب خشک مزاج آنکھیں بھی ہوئیں دل نے بھی مچلنا چھوڑ دیا

۲

ناوک فگنی سے ظالم کی جنگل میں ہے اک سناٹا سامرغان خوش الحاں ہو گئے چپ آہو نے اچھلنا چھوڑ دیا

۳

کیوں کبر و غرور اس دور پہ ہے کیوں دوست فلک کو سمجھا ہےگردش سے یہ اپنی باز آیا یا رنگ بدلنا چھوڑ دیا

۴

بدلی وہ ہوا گزرا وہ سماں وہ راہ نہیں وہ لوگ نہیںتفریح کہاں اور سیر کجا گھر سے بھی نکلنا چھوڑ دیا

۵

وہ سوز و گداز اس محفل میں باقی نہ رہا اندھیر ہواپروانوں نے جلنا چھوڑ دیا شمعوں نے پگھلنا چھوڑ دیا

۶

ہر گام پہ چند آنکھیں نگراں ہر موڑ پہ اک لیسنس طلباس پارک میں آخر اے اکبرؔ میں نے تو ٹہلنا چھوڑ دیا

۷

کیا دین کو قوت دیں یہ جواں جب حوصلہ افزا کوئی نہیںکیا ہوش سنبھالیں یہ لڑکے خود اس نے سنبھلنا چھوڑ دیا

۸

اقبال مساعد جب نہ رہا رکھے یہ قدم جس منزل میںاشجار سے سایہ دور ہوا چشموں نے ابلنا چھوڑ دیا

۹

اللہ کی راہ اب تک ہے کھلی آثار و نشاں سب قائم ہیںاللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ میں چلنا چھوڑ دیا

۱۰

جب سر میں ہوائے طاعت تھی سرسبز شجر امید کا تھاجب صرصر عصیاں چلنے لگی اس پیڑ نے پھلنا چھوڑ دیا

۱۱

اس حور لقا کو گھر لائے ہو تم کو مبارک اے اکبرؔلیکن یہ قیامت کی تم نے گھر سے جو نکلنا چھوڑ دیا

۸ / ۱۴۶