کلامِ اکبرردیف الف

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

۱

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتاآنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

۲

جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیابلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

۳

اللہ بچائے مرض عشق سے دل کوسنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا

۴

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سےہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

۵

میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کالیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا

۶

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدناموہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

۹ / ۱۴۶