کلامِ اکبرردیف الف

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا

۱

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑاجو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا

۲

صبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہلکھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا

۳

تجربے نے حب دنیا سے سکھایا احترازپہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا

۴

شیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیںدین کی خاطر سے دنیا کو طلب کرنا پڑا

۵

کیا کہوں بے خود ہوا میں کس نگاہ مست سےعقل کو بھی میری ہستی کا ادب کرنا پڑا

۶

اقتضا فطرت کا رکتا ہے کہیں اے ہم نشیںشیخ صاحب کو بھی آخر کار شب کرنا پڑا

۷

عالم ہستی کو تھا مد نظر کتمان رازایک شے کو دوسری شے کا سبب کرنا پڑا

۸

شعر غیروں کے اسے مطلق نہیں آئے پسندحضرت اکبرؔ کو بالآخر طلب کرنا پڑا

۱۰ / ۱۴۶