کلامِ اکبرردیف الف
طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا
۱
طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتاگئے فرہاد و مجنوں اب کسی سے دل نہیں ملتا
۲
بھری ہے انجمن لیکن کسی سے دل نہیں ملتاہمیں میں آ گیا کچھ نقص یا کامل نہیں ملتا
۳
پرانی روشنی میں اور نئی میں فرق اتنا ہےاسے کشتی نہیں ملتی اسے ساحل نہیں ملتا
۴
پہنچنا داد کو مظلوم کا مشکل ہی ہوتا ہےکبھی قاضی نہیں ملتے کبھی قاتل نہیں ملتا
۵
حریفوں پر خزانے ہیں کھلے یاں ہجر گیسو ہےوہاں پہ بل ہے اور یاں سانپ کا بھی بل نہیں ملتا
۶
یہ حسن و عشق ہی کا کام ہے شبہ کریں کس پرمزاج ان کا نہیں ملتا ہمارا دل نہیں ملتا
۷
چھپا ہے سینہ و رخ دل ستاں ہاتھوں سے کروٹ میںمجھے سوتے میں بھی وہ حسن سے غافل نہیں ملتا
۸
حواس و ہوش گم ہیں بحر عرفان الٰہی میںیہی دریا ہے جس میں موج کو ساحل نہیں ملتا
۹
کتاب دل مجھے کافی ہے اکبرؔ ؔدرس حکمت کومیں اسپنسر سے مستغنی ہوں مجھ سے مل نہیں ملتا
۱۱ / ۱۴۶