کلامِ اکبرردیف الف

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا

۱

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملابت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملا

۲

بزم یاراں سے پھری باد بہاری مایوسایک سر بھی اسے آمادۂ سودا نہ ملا

۳

گل کے خواہاں تو نظر آئے بہت عطر فروشطالب زمزمۂ بلبل شیدا نہ ملا

۴

واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نےکر دیا کعبے کو گم اور کلیسا نہ ملا

۵

رنگ چہرے کا تو کالج نے بھی رکھا قائمرنگ باطن میں مگر باپ سے بیٹا نہ ملا

۶

سید اٹھے جو گزٹ لے کے تو لاکھوں لائےشیخ قرآن دکھاتے پھرے پیسا نہ ملا

۷

ہوشیاروں میں تو اک اک سے سوا ہیں اکبرؔمجھ کو دیوانوں میں لیکن کوئی تجھ سا نہ ملا

۱۲ / ۱۴۶