کلامِ اکبرردیف الف

روشن دل عارف سے فزوں ہے بدن ان کا

۱

روشن دل عارف سے فزوں ہے بدن ان کارنگیں ہے طبیعت کی طرح پیرہن ان کا

۲

محروم ہی رہ جاتی ہے آغوش تمناشرم آ کے چرا لیتی ہے سارا بدن ان کا

۳

جن لوگوں نے دل میں ترے گھر اپنا کیا ہےباہر ہے دو عالم سے مری جاں وطن ان کا

۴

ہر بات میں وہ چال کیا کرتے ہیں مجھ سےالفت نہ نبھے گی جو یہی ہے چلن ان کا

۵

عارض سے غرض ہم کو عنادل کو ہے گل سےہے کوچۂ معشوق ہمارا چمن ان کا

۶

ہے صاف نگاہوں سے عیاں جوش جوانیآنکھوں سے سنبھلتا نہیں مستانہ پن ان کا

۷

یہ شرم کے معنی ہیں حیا کہتے ہیں اس کوآغوش تصور میں نہ آیا بدن ان کا

۸

غیروں ہی پہ چلتا ہے جو اب ناز کا خنجرکیوں بیچ میں لایا تھا مجھے بانکپن ان کا

۹

غیروں نے کبھی پاک نظر سے نہیں دیکھاوہ اس کو نہ سمجھیں تو یہ ہے حسن ظن ان کا

۱۰

اس زلف و رخ و لب پہ انہیں کیوں نہ ہو نخوتتاتار ہے ان کا حلب ان کا یمن ان کا

۱۱

اللہ رے فریب نظر چشم فسوں سازبندہ ہے ہر اک شیخ ہر اک برہمن ان کا

۱۲

آیا جو نظر حسن خداداد کا جلوہبت بن گیا منہ دیکھ کے ہر برہمن ان کا

۱۳

مرقد میں اتارا ہمیں تیوری کو چڑھا کرہم مر بھی گئے پر نہ چھٹا بانکپن ان کا

۱۴

گزری ہوئی باتیں نہ مجھے یاد دلاؤاب ذکر ہی جانے دو تم اے جان من ان کا

۱۵

دلچسپ ہی آفت ہے قیامت ہے غضب ہےبات ان کی ادا ان کی قد ان کا چلن ان کا

۱۳ / ۱۴۶