کلامِ اکبرردیف الف

یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیدا

۱

یوں مری طبع سے ہوتے ہیں معانی پیداجیسے ساون کی گھٹاؤں سے ہو پانی پیدا

۲

کیا غضب ہے نگہ مست مس بادہ فروششیخ فانی میں ہوا رنگ جوانی پیدا

۳

یہ جوانی ہے کہ پاتا ہے جنوں جس سے ظہوریہ نہ سمجھو کہ جنوں سے ہے جوانی پیدا

۴

بے خودی میں تو یہ جھگڑے نہیں رہتے اے ہوشتو نے کر رکھا ہے اک عالم فانی پیدا

۵

کوئی موقع نکل آئے کہ بس آنکھیں مل جائیںراہیں پھر آپ ہی کر لے گی جوانی پیدا

۶

ہر تعلق مرا سرمایہ ہے اک ناول کامیری ہر رات سے ہے ایک کہانی پیدا

۷

جنگ ہے جرم محبت ہے خلاف تہذیبہو چکا ولولۂ عہد جوانی پیدا

۸

کھو گئی ہند کی فردوس نشانی اکبرؔکاش ہو جائے کوئی ملٹنؔ ثانی پیدا

۱۴ / ۱۴۶