کلامِ اکبرردیف الف

یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیا

۱

یہ سست ہے تو پھر کیا وہ تیز ہے تو پھر کیانیٹیو جو ہے تو پھر کیا انگریز ہے تو پھر کیا

۲

رہنا کسی سے دب کر ہے امن کو ضروریپھر کوئی فرقہ ہیبت انگیز ہے تو پھر کیا

۳

رنج و خوشی کی سب میں تقسیم ہے مناسببابو جو ہے تو پھر کیا چنگیز ہے تو پھر کیا

۴

ہر رنگ میں ہیں پاتے بندے خدا کے روزیہے پینٹر تو پھر کیا رنگریز ہے تو پھر کیا

۵

جیسی جسے ضرورت ویسی ہی اس کی چیزیںیاں تخت ہے تو پھر کیا واں میز ہے تو پھر کیا

۶

مفقود ہیں اب اس کے سننے سمجھنے والےمیرا سخن نصیحت آمیز ہے تو پھر کیا

۱۵ / ۱۴۶